ہر قلمکار کو یہ تحریر دیکھنا چاہئے۔
کیونکہ زبان سے بھی اچھا پیغام ہوتا ہے ۔ website
ایمان فاطمہ بنتِ عبد الوحید
ام کلثوم بنت عبدالواحد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون تھی۔ اس کی حالات کا تفصیلات کافی معلوم ہے۔ وہ ایک مختلف شخصیت تھیں اور ان کے کردار کو عرب ادب میں سمجھا جاتا ہے۔
ایک اچھا لکھاری کہاں سے بناتا ہے?
اکھڑا لکھار بننے کے لیے ابتدائی طور پر اپنی تحریر کی قوت کو ترقی کا طریقہ اختیار کریں. عادت سے لکھے کا عمل. رسالے پڑھیں اور مختلف صنف کی تحریر کا مطالعہ کریں. آپ اپنی لکھائی کو خوب بنانے کے لیے نمونوں سے متعلق.
- رٹھنگ: کسی شے پر لکھیں. اپنی نکتہ نظر کا اظہار.
- تفصیل: چلنے والے کے ساتھ تعلقات رکھیں. اپنی لکھائی میں دھندلائی.
- ردوبدل: تیری نقد کو ممتاز. کسی دوست سے مشاورہ لیں.
لکھنے کی روایت : بسم اللہ سے شروع
ہر مصنف کی کہانی پیدائش اللہ کے نام سے کرتا ہے۔ یہ روایت ، Centuries پر چلی آتی رہی ہے ۔ لکھتے وقت اس مقدس کلمہ کا استعمال ، محبت اور غور کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ کلام ، محض نہیں بلکہ ایک پڑھائی ہے۔
یہ طریقہ عقیدہ کی دُعا اور یقین کا ایک نشانی ہے۔
فاطمہ بنتِ عبد الوحد کا پیغام
حضرت فاطمہ بنتِ عبد الوحید کی زندگی ایک مثالی نمونہ ہے. وہ اپنی عزت اور بے باکی کے لیے جانی جاتیں تھیں. ان کا پیغام آج بھی بہت قابلِ عمل ہے۔ وہ ہمیں دین کی راہ پر چلتے وقت حوصلہ دیتی ہیں۔ ان کی بلاغت کا اثر آج بھی ہماری روح میں محسوس ہوتا ہے۔
خلاقیت کی راہ میں بسم اللہ کے ساتھ قدم
یہ بحرِ خلاقیت में قدم رکھتے وقت، سب سے پہلے اللہ کے نام سے مانگا۔ یہ ایک عمل ہے جو صرف ایک بے قاعدہ جادوئی عبارت سے زیادہ ہے۔ یہ انسانوں کے دماغ کو بہت حد تک بھائی بھائی پھٹنے کا موقع دیتی ہے۔
- ہر حرکت
- تخلیق
- دعا
Comments on “ اللہ کے نام سے ایک پیغام لکھاریوں کے نام ”